اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں قومی اتحاد و یکجہتی کے تناظر میں کئے جانے اقدامات کے تحت درعا صوبے میں ایک ہزار مسلح افراد نے ہتھیار زمین پر رکھ کر خود کو فوج کے حوالے کر دیا۔ ان لوگوں نے فوج کو اپنے ہتھیار دیتے ہوئے مسلح کارروائی میں دوبارہ ملوث نہ ہونے کا وعدہ کیا جس کے بعد فوج نے انہیں آزاد کر دیا اور وہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
یہ وہ افراد تھے جو شام میں مسلح جھڑپوں میں براہ راست ملوث تھے اور قومی اتحاد کے پروگرام میں شامل ہو کر مسلح سرگرمیاں چھوڑ دیں۔ در ایں اثنا داريا علاقے میں جو دارالحکومت دمشق کے خلاف سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے، امن کی کوشش آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور اس علاقے میں فوج اور مسلح افراد کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہے اور اس گروہ نے ایک ہفتے کے دوران اپنے بھاری ہتھیار فوج کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اس مفاہمت کے عملی ہونے کی صورت میں دمشق میں سب سے بڑا قومی آشتی پروگرام عملی ہو جائے گا۔ اسی طرح شام کے سرکاری ذرائع نے اسٹرٹیجک الناصریہ پہاڑ پر کنٹرول کی اطلاع دی ہے یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام کی فوج نے اس سے قبل شمالی حماۃ کے خطاب علاقے پر کنٹرول کر لیا ہے فوج نے اسی طرح شمال مشرقی ادلب کے معرۃ النعمان علاقے میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔
.......
/169